پالتا ہے بيج کو مٹي کو تاريکي ميں کون
کون درياؤں کي موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟
کون لايا کھينچ کر پچھم سے باد سازگار
يہ کس کي ہے ، کس کا ہے يہ نور آفتاب؟
کس نے بھردي موتيوں سے خوشہء گندم کي جيب
موسموں کو کس نے سکھلائي ہے خوئے انقلاب؟
دہ خدايا! يہ زميں تيري نہيں ، تيري نہيں
تيرے آبا کي نہيں ، تيري نہيں ، ميري نہيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا