کليسا کي بنياد رہبانيت تھي
سماتي کہاں اس فقيري ميں ميري
خصومت تھي سلطاني و راہبي ميں
کہ وہ سربلندي ہے يہ سربزيري
سياست نے مذہب سے پيچھا چھٹرايا
چلي کچھ نہ پير کليسا کي پيري
ہوئي دين و دولت ميں جس دم جدائي
کي اميري ، ہوس کي وزيري
دوئي ملک و ديں کے ليے نامرادي
دوئي چشم تہذيب کي نابصيري
يہ اعجاز ہے ايک صحرا نشيں کا
!بشيري ہے آئينہ نذيري
اسي ميں حفاظت ہے انسانيت کي
کہ ہوں ايک جنےدي و اردشيري
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا