ميں بھي حاضر تھا وہاں ، ضبط کر نہ سکا
حق سے جب ملا کو ملا حکم بہشت
عرض کي ميں نے ، الہي! مري تقصير معاف
خوش نہ آئيں گے اسے حور و شراب و لب کشت
نہيں فردوس مقام جدل و قال و اقول
بحث و تکرار اس اللہ کے بندے کي سرشت
ہے بد آموزي اقوام و ملل کام اس کا
!اور جنت ميں نہ مسجد ، نہ کليسا ، نہ کنشت
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا