خودي کے ساز ميں ہے عمر جاوداں کا سراغ
خودي کے سوز سے روشن ہيں امتوں کے
يہ ايک بات کہ آدم ہے صاحب مقصود
!ہزار گونہ فروغ و ہزار گونہ فراغ
ہوئي نہ زاغ ميں پيدا بلند پروازي
خراب کر گئي شاہيں بچے کو صحبت زاغ
حيا نہيں ہے زمانے کي آنکھ ميں باقي
کرے کہ جواني تري رہے بے داغ
ٹھہر سکا نہ کسي خانقاہ ميں اقبال
کہ ہے ظريف و خوش انديشہ و شگفتہ دماغ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا