عقل ہے بے زمام ابھي ، ہے بے مقام ابھي
نقش گر ، ازل! ترا نقش ہے نا تمام ابھي
خلق کي گھات ميں رند و فقيہ و مير و پير
تيرے جہاں ميں ہے وہي گردش صبح و شام ابھي
تيرے امير مال مست ، تيرے فقير حال مست
بندہ ہے کوچہ گرد ابھي ، خواجہ بلند بام ابھي
دانش و دين و علم و فن بندگي ہوس تمام
عشق گرہ کشاے کا فيض نہيں ہے عام ابھي
جوہر زندگي ہے عشق ، جوہر عشق ہے خودي
!آہ کہ ہے يہ تيغ تيز پردگي نيام ابھي
اٹھو ! مري دنيا کے غريبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و ديوار ہلا دو
گرماؤ غلاموں کا لہو سوز يقيں سے
کنجشک فرومايہ کو شاہيں سے لڑا دو
سلطاني جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے ، مٹا دو
جس کھيت سے دہقاں کو ميسر نہيں روزي
اس کھيت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
کيوں خالق و مخلوق ميں حائل رہيں پردے
پيران کليسا کو کليسا سے اٹھا دو
حق را بسجودے ، صنماں را بطوافے
بہتر ہے چراغ حرم و دير بجھا دو
ميں ناخوش و بيزار ہوں مرمر کي سلوں سے
ميرے ليے مٹي کا حرم اور بنا دو
تہذيب نوي کارگہ شيشہ گراں ہے
!آداب جنوں شاعر مشرق کو سکھا دو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا