يہ غازي ، يہ تيرے پر اسرار بندے
جنھيں تو نے بخشا ہے ذوق خدائي
دو نيم ان کي ٹھوکر سے صحرا و دريا
سمٹ کر پہاڑ ان کي ہيبت سے رائي
دو عالم سے کرتي ہے بيگانہ کو
عجب چيز ہے لذت آشنائي
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنيمت نہ کشور کشائي
خياباں ميں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہيے اس کو خون عرب سے
کيا تو نے صحرا نشينوں کو يکتا
خبر ميں ، نظر ميں ، اذان ميں
طلب جس کي صديوں سے تھي زندگي کو
وہ سوز اس نے پايا انھي کے جگر ميں
کشاد در دل سمجھتے ہيں اس کو
ہلاکت نہيں موت ان کي نظر ميں
دل مرد مومن ميں پھر زندہ کر دے
وہ بجلي کہ تھي نعرہ لاتذر ، ميں
عزائم کو سينوں ميں بيدار کردے
!نگاہ مسلماں کو تلوار کردے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا