ہسپانيہ تو خون مسلماں کا اميں ہے
مانند حرم پاک ہے تو ميري ميں
پوشيدہ تري ميں سجدوں کے نشاں ہيں
خاموش اذانيں ہيں تري باد سحر ميں
روشن تھيں ستاروں کي طرح ان کي سنانيں
خيمے تھے کبھي جن کے ترے کوہ و کمر ميں
پھر تيرے حسينوں کو ضرورت ہے حنا کي؟
!باقي ہے ابھي رنگ مرے خون جگر ميں
کيونکر خس و خاشاک سے دب جائے مسلماں
مانا ، وہ تب و تاب نہيں اس کے شرر ميں
غرناطہ بھي ديکھا مري آنکھوں نے و ليکن
تسکين مسافر نہ سفر ميں نہ حضر ميں
ديکھا بھي دکھايا بھي ، سنايا بھي سنا بھي
!ہے دل کي تسلي نہ نظر ميں ، نہ خبر ميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا