ميري آنکھوں کا ہے تو
ميرے کا سرور ہے تو
اپني وادي سے دور ہوں ميں
ميرے ليے نخل طور ہے تو
مغرب کي ہوا نے تجھ کو پالا
صحرائے عرب کي حور ہے تو
پرديس ميں ناصبور ہوں ميں
پرديس ميں ناصبور ہے تو
غربت کي ہوا ميں بارور ہو
ساقي تيرا نم سحر ہو
عالم کا عجيب ہے نظارہ
دامان نگہ ہے پارہ پارہ
!ہمت کو شناوري مبارک
پيدا نہيں بحر کا کنارہ
ہے سوز دروں سے زندگاني
اٹھتا نہيں خاک سے شرارہ
صبح غربت ميں اور چمکا
ٹوٹا ہوا شام کا ستارہ
مومن کے جہاں کي حد نہيں ہے
مومن کا مقام ہر کہيں ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا