ہے يہي ميري نماز ، ہے يہي ميرا وضو
ميري نواؤں ميں ہے ميرے جگر کا لہو
صحبت اہل صفا ، و حضور و سرور
سر خوش و پرسوز ہے لالہ لب آبجو
محبت ميں ہے کون کسي کا رفيق
ساتھ مرے رہ گئي ايک مري آرزو
ميرا نشيمن نہيں درگہ مير و وزير
ميرا نشيمن بھي تو ، شاخ نشيمن بھي تو
تجھ سے گريباں مرا مطلع صبح نشور
'تجھ سے مرے سينے ميں آتش 'اللہ ھو
تجھ سے مري زندگي سوز و تب و درد و داغ
تو ہي مري آرزو ، تو ہي مري جستجو
پاس اگر تو نہيں ، شہر ہے ويراں تمام
تو ہے تو آباد ہيں اجڑے ہوئے کاخ و کو
پھر وہ شراب کہن مجھ کو عطا کہ ميں
ڈھونڈ رہا ہوں اسے توڑ کے جام و سبو
چشم کرم ساقيا! دير سے ہيں منتظر
جلوتيوں کے سبو ، خلوتيوں کے کدو
تيري خدائي سے ہے ميرے جنوں کو گلہ
!اپنے ليے لامکاں ، ميرے ليے چار سو
فلسفہ و شعر کي اور حقيقت ہے کيا
حرف تمنا ، جسے کہہ نہ سکيں رو برو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا