شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجيب
مقام شوق ميں ہيں سب و نظر کے رقيب
ميں جانتا ہوں جماعت کا حشر کيا ہو گا
مسائل نظري ميں الجھ گيا ہے خطيب
اگرچہ ميرے نشيمن کا کر رہا ہے طواف
مري نوا ميں نہيں طائر کا نصيب
سنا ہے ميں نے سخن رس ہے ترک عثماني
سنائے کون اسے اقبال کا يہ شعر غريب
سمجھ رہے ہيں وہ يورپ کو ہم جوار اپنا
!ستارے جن کے نشيمن سے ہيں زيادہ قريب
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا