کمال جوش جنوں ميں رہا ميں گرم طواف
کا شکر ، سلامت رہا حرم کا غلاف
يہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے ليے
کہ يک زباں ہيں فقيہان شہر ميرے خلاف
تڑپ رہا ہے فلاطوں ميان غيب و حضور
ازل سے اہل خرد کا مقام ہے اعراف
ترے ضمير پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازي نہ کشاف
سرور و سوز ميں ناپائدار ہے ، ورنہ
م ے فرنگ کا تہ جرعہ بھي نہيں ناصاف
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا