فقر کے ہيں معجزات تاج و سرير و سپاہ
فقر ہے ميروں کا مير ، فقر ہے شاہوں کا شاہ
علم کا مقصود ہے پاکي عقل و خرد
فقر کا مقصود ہے عفت قلب و
علم فقيہ و حکيم ، فقر مسيح و کليم
علم ہے جويائے ، فقر ہے دانائے راہ
فقر مقام نظر ، علم مقام خبر
فقر ميں مستي ثواب ، علم ميں مستي گناہ
علم کا 'موجود' اور ، فقر کا 'موجود' اور
!اشھد ان لا الہ' اشھد ان لا الہ
چڑھتي ہے جب فقر کي سان پہ تيغ خودي
ايک سپاہي کي ضرب کرتي ہے کار سپاہ
دل اگر اس خاک ميں زندہ و بيدار ہو
تيري نگہ توڑ دے آئنہء مہروماہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا