تھا جہاں مدرسہ شيري و شاہنشاہي
آج ان خانقہوں ميں ہے فقط روباہي
آئي نہ مجھے قافلہ سالاروں ميں
وہ شباني کہ ہے تمہيد کليم اللہي
لذت نغمہ کہاں مرغ خوش الحاں کے ليے
آہ ، اس باغ ميں کرتا ہے نفس کوتاہي
ايک سرمستي و حيرت ہے سراپا تاريک
ايک سرمستي و حيرت ہے تمام آگاہي
صفت برق چمکتا ہے مرا فکر بلند
کہ بھٹکتے نہ پھريں ظلمت ميں راہي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا