!کھو نہ جا اس سحروشام ميں اے ہوش
اک جہاں اور بھي ہے جس ميں نہ فردا ہے نہ دوش
کس کو معلوم ہے ہنگامہ فردا کا مقام
مسجد و مکتب و ميخانہ ہيں مدت سے خموش
ميں نے پايا ہے اسے اشک گاہي ميں
جس در ناب سے خالي ہے صدف کي آغوش
نئي تہذيب تکلف کے سوا کچھ بھي نہيں
!چہرہ روشن ہو تو کيا حاجت گلگونہ فروش
صاحب ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے
گاہے گاہے غلط آہنگ بھي ہوتا ہے سروش
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا