مري نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامي
ديا ہے ميں نے انھيں ذوق آتش آشامي
حرم کے پاس کوئي اعجمي ہے زمزمہ سنج
کہ تار تار ہوئے جامہ ہائے احرامي
حقيقت ابدي ہے مقام شبيري
بدلتے رہتے ہيں انداز کوفي و شامي
مجھے يہ ڈر ہے مقامر ہيں پختہ کار بہت
نہ رنگ لائے کہيں تيرے ہاتھ کي خامي
عجب نہيں کہ مسلماں کو پھر عطا کر ديں
سنجر و فقر جنيد و بسطامي
قبائے علم و ہنر لطف خاص ہے ، ورنہ
!تري ميں تھي ميري ناخوش اندامي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا