نے مہرہ باقي ، نے مہرہ بازي
جيتا ہے رومي ، ہارا ہے رازي
روشن ہے جام جمشيد اب تک
شاہي نہيں ہے بے شيشہ بازي
ہے مسلماں ميرا نہ تيرا
!تو بھي نمازي ، ميں بھي نمازي
ميں جانتا ہوں انجام اس کا
جس معرکے ميں ملا ہوں غازي
ترکي بھي شيريں ، تازي بھي شيريں
حرف محبت ترکي نہ تازي
آزر کا پيشہ خارا تراشي
کار خليلاں خارا گدازي
تو زندگي ہے ، پائندگي ہے
باقي ہے جو کچھ ، سب بازي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا