کريں گے اہل تازہ بستياں آباد
مري نہيں سوئے کوفہ و بغداد
يہ مدرسہ ، يہ جواں ، يہ سرور و رعنائي
انھي کے دم سے ہے ميخانہ فرنگ آباد
نہ فلسفي سے ، نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
يہ دل کي موت ، وہ انديشہ و نظر کا فساد
فقيہ شہر کي تحقير! کيا مجال مري
مگر يہ بات کہ ميں ڈھونڈتا ہوں دل کي کشاد
خريد سکتے ہيں دنيا ميں عشرت پرويز
خدا کي دين ہے سرمايہ غم فرہاد
کيے ہيں فاش رموز قلندري ميں نے
کہ فکر مدرسہ و خانقاہ ہو آزاد
رشي کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصا نہ ہو تو کليمي ہے کار بے بنياد
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا