فطرت نے نہ بخشا مجھے انديشہ چالاک
رکھتي ہے مگر طاقت پرواز مري
وہ کہ ہے جس کا جنوں صيقل ادراک
وہ خاک کہ جبريل کي ہے جس سے قبا چاک
وہ خاک کہ پروائے نشيمن نہيں رکھتي
چنتي نہيں پہنائے چمن سے خس و خاشاک
اس خاک کو اللہ نے بخشے ہيں وہ آنسو
کرتي ہے چمک جن کي ستاروں کو عرق ناک
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا