نہ تخت و تاج ميں ، نے لشکر و سپاہ ميں ہے
جو بات مرد قلندر کي بارگاہ ميں ہے
صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خليل
يہ نکتہ وہ ہے کہ پوشيدہ لاالہ ميں ہے
وہي جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پيدا
يہ سنگ و خشت نہيں ، جو تري ميں ہے
مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کا
وہ مشت خاک ابھي آوارگان ميں ہے
خبر ملي ہے خدايان بحر و بر سے مجھے
فرنگ رہ گزر سيل بے پناہ ميں ہے
تلاش اس کي فضاؤں ميں کر نصيب اپنا
جہان تازہ مري آہ صبح گاہ ميں ہے
مرے کدو کو غنيمت سمجھ کہ بادہ ناب
نہ مدرسے ميں ہے باقي نہ خانقاہ ميں ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا