يوں ہاتھ نہيں آتا وہ گوہر يک دانہ
!يک رنگي و آزادي اے ہمت مردانہ
يا سنجر و طغرل کا آئين جہاں گيري
!يا مرد قلندر کے انداز ملوکانہ
يا حيرت فارابي يا تاب و تب رومي
!يا فکر حکيمانہ يا جذب کليمانہ
يا عقل کي روباہي يا يد اللہي
!يا حيلہ افرنگي يا حملہ ترکانہ
يا شرع مسلماني يا دير کي درباني
!يا نعرہ مستانہ ، کعبہ ہو کہ بت خانہ
ميري ميں فقيري ميں ، شاہي ميں غلامي ميں
کچھ کام نہيں بنتا بے جرأت رندانہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا