ہوا نہ زور سے اس کے کوئي گريباں چاک
اگرچہ مغربيوں کا جنوں بھي تھا چالاک
م ے يقيں سے ضمير حيات ہے پرسوز
نصيب مدرسہ يا رب يہ آب آتش ناک
عروج آدم خاکي کے منتظر ہيں تمام
يہ کہکشاں ، يہ ستارے ، يہ نيلگوں افلاک
يہي زمانہ حاضر کي کائنات ہے کيا
دماغ روشن و تيرہ و نگہ بے باک
تو بے بصر ہو تو يہ مانع بھي ہے
وگرنہ آگ ہے مومن ، جہاں خس و خاشاک
زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہ
کسے خبر کہ جنوں بھي ہے صاحب ادراک
جہاں تمام ہے ميراث مرد مومن کي
ميرے کلام پہ حجت ہے نکتہ لولاک
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا