مکتبوں ميں کہيں رعنائي افکار بھي ہے؟
خانقاہوں ميں کہيں اسرار بھي ہے؟
راہرواں دور بھي ، دشوار بھي ہے
کوئي اس قافلے ميں قافلہ سالار بھي ہے؟
بڑھ کے خيبر سے ہے يہ معرکہ دين و وطن
اس زمانے ميں کوئي حيدر کرار بھي ہے؟
علم کي حد سے پرے ، بندہ مومن کے ليے
لذت شوق بھي ہے ، نعمت ديدار بھي ہے
پير ميخانہ يہ کہتا ہے کہ ايوان فرنگ
!سست بنياد بھي ہے ، آئنہ ديوار بھي ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا