ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام
!وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام
پير حرم نے کہا سن کے مري روئداد
پختہ ہے تيري فغاں ، اب نہ اسے ميں تھام
تھا ارني گو کليم ، ميں ارني گو نہيں
اس کو تقاضا روا ، مجھ پہ تقاضا حرام
گرچہ ہے افشائے راز ، اہل کي فغاں
ہو نہيں سکتا کبھي شيوہ رندانہ عام
حلقہ صوفي ميں ذکر ، بے نم و بے سوز و ساز
ميں بھي رہا تشنہ کام ، تو بھي رہا تشنہ کام
عشق تري انتہا ، عشق مري انتہا
تو بھي ابھي ناتمام ، ميں بھي ابھي ناتمام
آہ کہ کھويا گيا تجھ سے فقيري کا راز
ورنہ ہے مال فقير سلطنت روم و شام
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا