!يہ پيران کليسا و حرم ، اے وائے مجبوري
صلہ ان کي کدوي کاوش کا ہے سينوں کي بے نوري
يقيں پيدا کر اے ناداں! يقيں سے ہاتھ آتي ہے
وہ درويشي ، کہ جس کے سامنے جھکتي ہے فغفوري
کبھي حيرت ، کبھي مستي ، کبھي آہ سحرگاہي
بدلتا ہے ہزاروں رنگ ميرا مہجوري
حد ادراک سے باہر ہيں باتيں و مستي کي
سمجھ ميں اس قدر آيا کہ دل کي موت ہے ، دوري
وہ اپنے حسن کي مستي سے ہيں مجبور پيدائي
مري آنکھوں کي بينائي ميں ہيں اسباب مستوري
کوئي تقدير کي منطق سمجھ سکتا نہيں ورنہ
نہ تھے ترکان عثماني سے کم ترکان تيموري
فقيران حرم کے ہاتھ اقبال آگيا کيونکر
ميسر ميرو سلطاں کو نہيں شاہين کافوري
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا