نہ ہو طغيان مشتاقي تو ميں رہتا نہيں باقي
کہ ميري زندگي کيا ہے ، يہي طغيان مشتاقي
مجھے فطرت نوا پر پے بہ پے مجبور کرتي ہے
ابھي محفل ميں ہے شايد کوئي آشنا باقي
وہ آتش آج بھي تيرا نشيمن پھونک سکتي ہے
!طلب صادق نہ ہو تيري تو پھر کيا شکوئہ ساقي
نہ کر افرنگ کا اندازہ اس کي تابناکي سے
کہ بجلي کے چراغوں سے ہے اس جوہر کي براقي
دلوں ميں ولولے آفاق گيري کے نہيں اٹھتے
نگاہوں ميں اگر پيدا نہ ہو انداز آفاقي
ميں بھي کب آسکتا تھا ميں صياد کي زد ميں
مري غماز تھي شاخ نشيمن کي کم اوراقي
الٹ جائيں گي تدبيريں ، بدل جائيں گي تقديريں
حقيقت ہے ، نہيں ميرے تخيل کي يہ خلاقي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا