مجھے آہ و فغان نيم کا پھر پيام آيا
تھم اے رہرو کہ شايد پھر کوئي مشکل مقام آيا
ذرا تقدير کي گہرائيوں ميں ڈوب جا تو بھي
کہ اس جنگاہ سے ميں بن کے تيغ بے نيام آيا
يہ مصرع لکھ ديا کس شوخ نے محراب مسجد پر
يہ ناداں گر گئے سجدوں ميں جب وقت قيام آيا
چل ، اے ميري غريبي کا تماشا ديکھنے والے
وہ محفل اٹھ گئي جس دم تو مجھ تک دور جام آيا
ديا اقبال نے ہندي مسلمانوں کو سوز اپنا
يہ اک مرد تن آساں تھا ، تن آسانوں کے کام آيا
اسي اقبال کي ميں جستجو کرتا رہا برسوں
بڑي کے بعد آخر وہ شاہيں زير دام آيا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا