خردمندوں سے کيا پوچھوں کہ ميري ابتدا کيا ہے
کہ ميں اس فکر ميں رہتا ہوں ، ميري انتہا کيا ہے
خودي کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدير سے پہلے
بندے سے خود پوچھے ، بتا تيري رضا کيا ہے
مقام گفتگو کيا ہے اگر ميں کيميا گرہوں
!يہي سوز نفس ہے ، اور ميري کيميا کيا ہے
آئيں مجھے تقدير کي گہرائياں اس ميں
نہ پوچھ اے ہم نشيں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کيا ہے
اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگي اس زمانے ميں
تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبريا کيا ہے
نواے صبح گاہي نے جگر خوں کر ديا ميرا
!خدايا جس خطا کي يہ سزا ہے ، وہ خطا کيا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا