!اعجاز ہے کسي کا يا گردش زمانہ
ٹوٹا ہے ايشيا ميں فرنگيانہ
تعمير آشياں سے ميں نے يہ راز پايا
اہل نوا کے حق ميں بجلي ہے آشيانہ
يہ بندگي خدائي ، وہ بندگي گدائي
!يا بندہ بن يا بندہ زمانہ
غافل نہ ہو خودي سے ، کر اپني پاسباني
شايد کسي حرم کا تو بھي ہے آستانہ
اے لا الہ کے وارث! باقي نہيں ہے تجھ ميں
گفتار دلبرانہ ، کردار قاہرانہ
تيري نگاہ سے دل سينوں ميں کانپتے تھے
کھويا گيا ہے تيرا جذب قلندرانہ
راز حرم سے شايد اقبال باخبر ہے
ہيں اس کي گفتگو کے انداز محرمانہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا