ہر چيز ہے محو خود نمائي
ہر ذرہ شہيد کبريائي
بے ذوق نمود زندگي ،
تعمير خودي ميں ہے خدائي
رائي زور خودي سے پربت
پربت ضعف خودي سے رائي
تارے آوارہ و کم آميز
تقدير وجود ہے جدائي
يہ پچھلے پہر کا زرد رو
بے راز و نياز آشنائي
تيري قنديل ہے ترا دل
تو آپ ہے اپني روشنائي
اک تو ہے کہ حق ہے اس جہاں ميں
باقي ہے نمود سيميائي
ہيں عقدہ کشا يہ خار صحرا
کم کر گلہ برہنہ پائي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا