خرد نے مجھ کو عطا کي حکيمانہ
سکھائي نے مجھ کو حديث رندانہ
نہ بادہ ہے ، نہ صراحي ، نہ دور پيمانہ
فقط نگاہ سے رنگيں ہے بزم جانانہ
مري نوائے پريشاں کو شاعري نہ سمجھ
کہ ميں ہوں محرم راز درون ميخانہ
کلي کو ديکھ کہ ہے تشنہ نسيم سحر
اسي ميں ہے مرے دل کا تمام افسانہ
کوئي بتائے مجھے يہ غياب ہے کہ حضور
سب آشنا ہيں يہاں ، ايک ميں ہوں بيگانہ
فرنگ ميں کوئي دن اور بھي ٹھہر جاؤں
مرے جنوں کو سنبھالے اگر يہ ويرانہ
مقام عقل سے آساں گزر گيا اقبال
مقام شوق ميں کھويا گيا وہ فرزانہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا