تري فرومايہ ، ہاتھ ہے کوتاہ
ترا گنہ کہ نخيل بلند کا ہے گناہ
گلا تو گھونٹ ديا اہل مدرسہ نے ترا
'کہاں سے آئے صدا 'لا الہ الا اللہ
!خودي ميں گم ہے خدائي ، تلاش کر غافل
يہي ہے تيرے ليے اب صلاح کار کي
حديث دل کسي درويش بے گليم سے پوچھ
خدا کرے تجھے تيرے مقام سے آگاہ
برہنہ سر ہے تو عزم بلند پيدا کر
يہاں فقط سر شاہيں کے واسطے ہے کلاہ
نہ ہے ستارے کي گردش ، نہ بازي افلاک
خودي کي موت ہے تيرا زوال نعمت و جاہ
اٹھا ميں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک
!نہ زندگي ، نہ محبت ، نہ معرفت ، نہ نگاہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا