خودي وہ بحر ہے جس کا کوئي کنارہ نہيں
تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہيں
طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہيں
زجاج کي يہ عمارت ہے ، سنگ خارہ نہيں
خودي ميں ڈوبتے ہيں پھر ابھر بھي آتے ہيں
مگر يہ حوصلہ مرد ہيچ کارہ نہيں
ترے مقام کو انجم شناس کيا جانے
کہ زندہ ہے تو ، تابع ستارہ نہيں
يہيں بہشت بھي ہے ، حور و جبرئيل بھي ہے
تري نگہ ميں ابھي شوخي نظارہ نہيں
مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا
وہ پيرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہيں
غضب ہے ، عين کرم ميں بخيل ہے
کہ لعل ناب ميں آتش تو ہے ، شرارہ نہيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا