کمال ترک نہيں آب و سے مہجوري
کمال ترک ہے تسخير خاکي و نوري
ميں ايسے فقر سے اے اہل حلقہ باز آيا
تمھارا فقر ہے بے دولتي و رنجوري
نہ فقر کے ليے موزوں ، نہ سلطنت کے ليے
وہ قوم جس نے گنوايا متاع تيموري
سنے نہ ساقي مہ وش تو اور بھي اچھا
عيار گرمي صحبت ہے حرف معذوري
حکيم و عارف و صوفي ، تمام مست ظہور
کسے خبر کہ تجلي ہے عين مستوري
وہ ملتفت ہوں تو کنج قفس بھي آزادي
نہ ہوں تو صحن بھي مقام مجبوري
برا نہ مان ، ذرا آزما کے ديکھ اسے
فرنگ دل کي خرابي ، خرد کي معموري
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا