يہ دير کہن کيا ہے ، انبار خس و خاشاک
مشکل ہے گزر اس ميں بے نالہ آتش ناک
نخچير محبت کا قصہ نہيں طولاني
لطف خلش پيکاں ، آسودگي فتراک
کھويا گيا جو ہفتاد و دو ملت ميں
سمجھے گا نہ تو جب تک بے رنگ نہ ہو ادراک
اک شرع مسلماني ، اک جذب مسلماني
ہے جذب مسلماني سر فلک الافلاک
اے رہرو فرزانہ ، بے جذب مسلماني
نے عمل پيدا نے شاخ يقيں نم ناک
رمزيں ہيں محبت کي گستاخي و بے باکي
ہر شوق نہيں گستاخ ، ہر جذب نہيں بے باک
فارغ تو نہ بيٹھے گا محشر ميں جنوں ميرا
!يا اپنا گريباں چاک يا دامن يزداں چاک
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا