زمستاني ہوا ميں گرچہ تھي شمشير کي تيزي
نہ چھوٹے مجھ سے لندن ميں بھي آداب خيزي
کہيں سرمايہ محفل تھي ميري گرم گفتاري
کہيں سب کو پريشاں کر گئي ميري کم آميزي
!زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں ميں ہو پھر کيا
طريق کوہکن ميں بھي وہي حيلے ہيں پرويزي
جلال پادشاہي ہو کہ جمہوري تماشا ہو
جدا ہو ديں سياست سے تو رہ جاتي ہے چنگيزي
سواد رومة الکبرے ميں دلي ياد آتي ہے
وہي عبرت ، وہي عظمت ، وہي شان آويزي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا