مير سپاہ ناسزا ، لشکرياں شکستہ صف
آہ! وہ تير نيم کش جس کا نہ ہو کوئي ہدف
تيرے محيط ميں کہيں گوہر زندگي نہيں
ڈھونڈ چکا ميں موج موج ، ديکھ چکا صدف صدف
بتاں سے ہاتھ اٹھا ، اپني خودي ميں ڈوب جا
نقش و نگار دير ميں خون جگر نہ کر تلف
کھول کے کيا بياں کروں سر مقام مرگ و
عشق ہے مرگ با شرف ، مرگ حيات بے شرف
صحبت پير روم سے مجھ پہ ہوا يہ راز فاش
لاکھ حکيم سر بجيب ، ايک کليم سر بکف
مثل کليم ہو اگر معرکہ آزما کوئي
اب بھي درخت طور سے آتي ہے بانگ' لا تخف
خيرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے ميري آنکھ کا خاک مدينہ و نجف
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا