خودي کي شوخي و تندي ميں کبر و ناز نہيں
جو ناز ہو بھي تو بے لذت نياز نہيں
نگاہ عشق زندہ کي تلاش ميں ہے
شکار مردہ سزاوار شاہباز نہيں
مري نوا ميں نہيں ہے ادائے محبوبي
کہ بانگ صور سرافيل نواز نہيں
سوال مے نہ کروں ساقي فرنگ سے ميں
کہ يہ طريقہ رندان پاک باز نہيں
ہوئي نہ عام جہاں ميں کبھي حکومت عشق
سبب يہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہيں
اک اضطراب مسلسل ، غياب ہو کہ حضور
ميں خود کہوں تو مري داستاں دراز نہيں
اگر ہو ذوق تو خلوت ميں پڑھ زبور عجم
فغان نيم شبي بے نوائے راز نہيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا