بيدار فاروقي ، دل بيدار کراري
مس آدم کے حق ميں کيميا ہے کي بيداري
دل بيدار پيدا کر کہ دل خوابيدہ ہے جب تک
نہ تيري ضرب ہے کاري ، نہ ميري ضرب ہے کاري
مشام تيز سے ملتا ہے صحرا ميں نشاں اس کا
ظن و تخميں سے ہاتھ آتا نہيں آہوئے تاتاري
اس انديشے سے ضبط آہ ميں کرتا رہوں کب تک
کہ مغ زادے نہ لے جائيں تري قسمت کي چنگاري
خداوندا يہ تيرے سادہ دل بندے کدھر جائيں
کہ درويشي بھي عياري ہے ، سلطاني بھي عياري
مجھے تہذيب حاضر نے عطا کي ہے وہ آزادي
کہ ظاہر ميں تو آزادي ہے ، باطن ميں گرفتاري
تو اے مولائے يثرب! آپ ميري چارہ سازي کر
مري دانش ہے افرنگي ، مرا ايماں ہے زناري
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا