يہ حوريان فرنگي ، و نظر کا حجاب
بہشت مغربياں ، جلوہ ہائے پا بہ رکاب
و نظر کا سفينہ سنبھال کر لے جا
مہ و ستارہ ہيں بحر وجود ميں گرداب
جہان صوت و صدا ميں سما نہيں سکتي
لطيفہ ازلي ہے فغان چنگ و رباب
سکھا ديے ہيں اسے شيوہ ہائے خانقہي
فقيہ شہر کو صوفي نے کر ديا ہے خراب
وہ سجدہ ، روح زميں جس سے کانپ جاتي تھي
اسي کو آج ترستے ہيں منبر و محراب
سني نہ مصر و فلسطيں ميں وہ اذاں ميں نے
ديا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشہ سيماب
ہوائے قرطبہ! شايد يہ ہے اثر تيرا
مري نوا ميں ہے سوز و سرور عہد شباب
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا