يہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگيز
انديشہ دانا کو کرتا ہے جنوں آميز
گو فقر بھي رکھتا ہے انداز ملوکانہ
نا پختہ ہے پرويزي بے سلطنت پرويز
اب حجرہ صوفي ميں وہ فقر نہيں باقي
خون شيراں ہو جس فقر کي دستاويز
اے حلقہ درويشاں! وہ مرد کيسا
ہو جس کے گريباں ميں ہنگامہ رستا خيز
جو ذکر کي گرمي سے شعلے کي طرح روشن
!جو فکر کي سرعت ميں بجلي سے زيادہ تيز
کرتي ہے ملوکيت آثار جنوں پيدا
اللہ کے نشتر ہيں تيمور ہو يا چنگيز
يوں داد سخن مجھ کو ديتے ہيں عراق و پارس
يہ کافر ہندي ہے بے تيغ و سناں خوں ريز
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا