وہي ميري کم نصيبي ، وہي تيري بے نيازي
ميرے کام کچھ نہ آيا يہ کمال نے نوازي
ميں کہاں ہوں تو کہاں ہے ، يہ مکاں کہ لامکاں ہے؟
يہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تري کرشمہ سازي
اسي کشمکش ميں گزريں مري زندگي کي راتيں
کبھي سوزو ساز رومي ، کبھي پيچ و تاب رازي
وہ فريب خوردہ شاہيں کہ پلا ہو کرگسوں ميں
اسے کيا خبر کہ کيا ہے رہ و رسم شاہبازي
نہ زباں کوئي غزل کي ، نہ زباں سے باخبر ميں
کوئي دلکشا صدا ہو ، عجمي ہو يا کہ تازي
نہيں فقر و سلطنت ميں کوئي امتياز ايسا
يہ سپہ کي تيغ بازي ، وہ نگہ کي تيغ بازي
کوئي سے ٹوٹا ، کوئي بدگماں حرم سے
کہ امير کارواں ميں نہيں خوئے نوازي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا