ضمير لالہ مے لعل سے ہوا لبريز
اشارہ پاتے ہي صوفي نے توڑ دي پرہيز
بچھائي ہے جو کہيں نے بساط اپني
کيا ہے اس نے فقيروں کو وارث پرويز
پرانے ہيں يہ ستارے ، فلک بھي فرسودہ
جہاں وہ چاہيے مجھ کو کہ ہو ابھي نوخيز
کسے خبر ہے کہ ہنگامہ نشور ہے کيا
تري کي گردش ہے ميري رستاخيز
نہ چھين لذت آہ سحر گہي مجھ سے
نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آميز
دل غميں کے موافق نہيں ہے موسم گل
صدائے مرغ چمن ہے بہت نشاط انگيز
حديث بے خبراں ہے ، تو با زمانہ بساز
زمانہ با تو نسازد ، تو با زمانہ ستيز
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا