متاع بے بہا ہے و سوز آرزو مندي
مقام بندگي دے کر نہ لوں شان خداوندي
ترے آزاد بندوں کي نہ يہ دنيا ، نہ وہ دنيا
يہاں مرنے کي پابندي ، وہاں جينے کي پابندي
حجاب اکسير ہے آوارہ کوئے محبت کو
ميري آتش کو بھڑکاتي ہے تيري دير پيوندي
گزر اوقات کر ليتا ہے يہ کوہ و بياباں ميں
کہ شاہيں کے ليے ذلت ہے کار آشياں بندي
يہ فيضان تھا يا کہ مکتب کي کرامت تھي
سکھائے کس نے اسمعيل کو آداب فرزندي
زيارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد ميري
کہ خاک راہ کو ميں نے بتايا راز الوندي
مري مشاطگي کي کيا ضرورت حسن معني کو
کہ فطرت خود بخود کرتي ہے لالے کي حنا بندي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا