مٹا ديا مرے ساقي نے عالم من و تو
پلا کے مجھ کو مے لا الہ الا ھو
نہ مے ،نہ شعر ، نہ ساقي ، نہ شور چنگ و رباب
!سکوت کوہ و لب جوے و لالہ خود رو
گدائے مے کدہ کي شان بے نيازي ديکھ
!پہنچ کے چشمہ حيواں پہ توڑتا ہے سبو
مرا سبوچہ غنيمت ہے اس زمانے ميں
کہ خانقاہ ميں خالي ہيں صوفيوں کے کدو
ميں نو نياز ہوں ، مجھ سے حجاب ہي اولي
کہ سے بڑھ کے ہے ميري نگاہ بے قابو
اگرچہ بحر کي موجوں ميں ہے مقام اس کا
صفائے پاکي طينت سے ہے گہر کا وضو
جميل تر ہيں و لالہ فيض سے اس کے
نگاہ شاعر رنگيں نوا ميں ہے جادو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا