دگرگوں ہے جہاں ، تاروں کي گردش تيز ہے ساقي
ہر ذرہ ميں غوغائے رستا خيز ہے ساقي
متاع دين و دانش لٹ گئي اللہ والوں کي
يہ کس کافر ادا کا غمزئہ خوں ريز ہے ساقي
وہي ديرينہ بيماري ، وہي نا محکمي کي
علاج اس کا وہي آب نشاط انگيز ہے ساقي
حرم کے دل ميں سوز آرزو پيدا نہيں ہوتا
کہ پيدائي تري اب تک حجاب آميز ہے ساقي
نہ اٹھا پھر کوئي رومي عجم کے لالہ زاروں سے
وہي آب و گل ايراں ، وہي تبريز ہے ساقي
نہيں ہے نااميد اقبال اپني کشت ويراں سے
ذرا نم ہو تو يہ مٹي بہت زرخيز ہے ساقي
فقير راہ کو بخشے گئے اسرار سلطاني
بہا ميري نوا کي دولت پرويز ہے ساقي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا