پريشاں ہوکے ميري خاک آخر نہ بن جائے
جو مشکل اب ہے يارب پھر وہي مشکل نہ بن جائے
نہ کر ديں مجھ کو مجبور نوا فردوس ميں حوريں
مرا سوز دروں پھر گرمي محفل نہ بن جائے
کبھي چھوڑي ہوئي بھي ياد آتي ہے راہي کو
کھٹک سي ہے ، جو سينے ميں ، غم منزل نہ بن جائے
بنايا عشق نے دريائے ناپيدا کراں مجھ کو
يہ ميري خود نگہداري مرا ساحل نہ بن جائے
کہيں اس عالم بے رنگ و بو ميں بھي طلب ميري
وہي افسانہ دنبالہ محمل نہ بن جائے
عروج آدم خاکي سے انجم سہمے جاتے ہيں
کہ يہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا