کيا ايک زندگي مستعار کا
کيا پائدار سے ناپائدار کا
وہ عشق جس کي شمع بجھا دے اجل کي پھونک
اس ميں مزا نہيں تپش و انتظار کا
ميري بساط کيا ہے ، تب و تاب يک نفس
شعلے سے بے محل ہے الجھنا شرار کا
کر پہلے مجھ کو زندگي جاوداں عطا
پھر ذوق و شوق ديکھ دل بے قرار کا
کانٹا وہ دے کہ جس کي کھٹک لازوال ہو
!يارب ، وہ درد جس کي کسک لازوال ہو
دلوں کو مرکز مہر و وفا کر
حريم کبريا سے آشنا کر
جسے نان جويں بخشي ہے تو نے
اسے بازوئے حيدر بھي عطا کر
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا