اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مري فرياد
نہيں ہے داد کا طالب يہ بندہء آزاد
يہ مشت ، يہ صرصر ، يہ وسعت افلاک
!کرم ہے يا کہ ستم تيري لذت ايجاد
ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن ميں خيمہء
يہي ہے فصل بہاري ، يہي ہے باد مراد؟
قصور وار ، غريب الديار ہوں ليکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد
مري جفا طلبي کو دعائيں ديتا ہے
وہ دشت سادہ ، وہ تيرا جہان بے بنياد
خطر پسند طبيعت کو ساز گار نہيں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات ميں نہ ہو صياد
مقام شوق ترے قدسيوں کے بس کا نہيں
انھي کا کام ہے يہ جن کے حوصلے ہيں زياد
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا