گيسوئے تاب دار کو اور بھي تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر ، قلب و شکار کر
عشق بھي ہو حجاب ميں ، بھي ہو حجاب ميں
يا تو خود آشکار ہو يا مجھے آشکار کر
تو ہے محيط بے کراں ، ميں ہوں ذرا سي آبجو
يا مجھے ہمکنار کر يا مجھے بے کنار کر
ميں ہوں صدف تو تيرے ہاتھ ميرے گہر کي آبرو
ميں ہوں خزف تو تو مجھے گوہر شاہوار کر
نغمہء نو بہار اگر ميرے نصيب ميں نہ ہو
اس دم نيم سوز کو طائرک بہار کر
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر ديا تھا کيوں
کار جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر
روز حساب جب مرا پيش ہو دفتر عمل
آپ بھي شرمسار ہو ، مجھ کو بھي شرمسار کر
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا