مشرق ميں اصول دين بن جاتے ہيں
مغرب ميں مگر مشين بن جاتے ہيں
رہتا نہيں ايک بھي ہمارے پلے
واں ايک کے تين تين بن جاتے ہيں
لڑکياں پڑھ رہي ہيں انگريزي
ڈھونڈلي قوم نے فلاح کي
روش مغربي ہے مدنظر
وضع مشرق کو جانتے ہيں گناہ
يہ ڈراما دکھائے گا کيا سين
پردہ اٹھنے کي منتظر ہے
شيخ صاحب بھي تو پردے کے کوئي حامي نہيں
مفت ميں کالج کے لڑکے ان سے بدظن ہو گئے
وعظ ميں فرما ديا کل آپ نے يہ صاف صاف
''پروہ آخر کس سے ہو جب مرد ہي زن ہو گئے''
!يہ کوئي دن کي بات ہے اے مرد ہوش مند
غيرت نہ تجھ ميں ہو گي، نہ زن اوٹ چاہے گي
آتا ہے اب وہ دور کہ اولاد کے عوض
کونسل کي ممبري کے ليے ووٹ چاہے گي
تعليم مغربي ہے بہت جرات آفريں
پہلا سبق ہے، بيٹھ کے کالج ميں مار ڈينگ
بستے ہيں ہند ميں جو خريدار ہي فقط
آغا بھي لے کے آتے ہيں اپنے وطن سے ہينگ
ميرا يہ حال، لوٹ کي ٹو چاٹتا ہوں ميں
ان کا يہ حکم، ديکھ! مرے فرش پر نہ رينگ
کہنے لگے کہ اونٹ ہے بھدا سا جانور
اچھي ہے گائے، رکھتي ہے کيا نوک دار سينگ
کچھ غم نہيں جو حضرت واعظ ہيں تنگ دست
تہذيب نو کے سامنے سر اپنا خم کريں
رد جہاد ميں تو بہت کچھ لکھا گيا
ترديد حج ميں کوئي رسالہ رقم کريں
!تہذيب کے مريض کو گولي سے فائدہ
دفع مرض کے واسطے پل پيش کيجيے
تھے وہ بھي دن کہ خدمت استاد کے عوض
دل چاہتا تھا ہديہء دل پيش کيجيے
بدلا زمانہ ايسا کہ لڑکا پس از سبق
!''کہتا ہے ماسٹر سے کہ ''بل پيش کيجيے
انتہا بھي اس کي ہے؟ آخر خريديں کب تلک
چھترياں، رومال، مفلر، پيرہن جاپان سے
اپني غفلت کي يہي حالت اگر قائم رہي
آئيں گے غسال کابل سے ،کفن جاپان سے
ہم مشرق کے مسکينوں کا دل مغرب ميں جا اٹکا ہے
واں کنڑ سب بلوري ہيں ياں ايک پرانا مٹکا ہے
اس دور ميں سب مٹ جائيں گے، ہاں! باقي وہ رہ جائے گا
جو قائم اپني راہ پہ ہے اور پکا اپني ہٹ کا ہے
اے شيخ و برہمن، سنتے ہو! کيا اہل بصيرت کہتے ہيں
گردوں نے کتني بلندي سے ان قوموں کو دے پٹکا ہے
يا باہم پيار کے جلسے تھے ، دستور محبت قائم تھا
يا بحث ميں اردو ہندي ہے يا قرباني يا جھٹکا ہے
''اصل شہود و شاہد و مشہود ايک ہے''
غالب کا قول سچ ہے تو پھر ذکر غير کيا
کيوں اے جناب شيخ! سنا آپ نے بھي کچھ
کہتے تھے کعبے والوں سے کل اہل دير کيا
ہم پوچھتے ہيں مسلم عاشق مزاج سے
!الفت بتوں سے ہے تو برہمن سے بير کيا
ہاتھوں سے اپنے دامن دنيا نکل گيا
رخصت ہوا دلوں سے خيال معاد بھي
قانوں وقف کے ليے لڑتے تھے شيخ جي
!پوچھو تو، وقف کے ليے ہے جائداد بھي
وہ مس بولي ارادہ خودکشي کا جب کيا ميں نے
مہذب ہے تو اے عاشق! قدم باہر نہ دھر حد سے
نہ جرات ہے ، نہ خنجر ہے تو قصد خودکشي کيسا
يہ مانا درد ناکامي گيا تيرا گزر حد سے
کہا ميں نے کہ اے جاں جہاں کچھ نقد دلوا دو
کرائے پر منگالوں گا کوئي افغان سرحد سے
ناداں تھے اس قدر کہ نہ جاني عرب کي قدر
حاصل ہوا يہي، نہ بچے مار پيٹ سے
مغرب ميں ہے جہاز بياباں شتر کا نام
ترکوں نے کام کچھ نہ ليا اس فليٹ سے
ہندوستاں ميں جزو حکومت ہيں کونسليں
آغاز ہے ہمارے سياسي کمال کا
ہم تو فقير تھے ہي، ہمارا تو کام تھا
سيکھيں سليقہ اب امرا بھي 'سوال' کا
ممبري امپيريل کونسل کي کچھ مشکل نہيں
ووٹ تو مل جائيں گے ، پيسے بھي دلوائيں گے کيا؟
ميرزا غالب خدا بخشے ، بجا فرما گئے
''ہم نے يہ ماناکہ دلي ميں رہيں، کھائيں گے کيا؟''
دليل مہر و وفا اس سے بڑھ کے کيا ہوگي
نہ ہو حضور سے الفت تو يہ ستم نہ سہيں
مصر ہے حلقہ ،کميٹي ميں کچھ کہيں ہم بھي
مگر رضائے کلکٹر کو بھانپ ليں تو کہيں
سند تو ليجيے ، لڑکوں کے کام آئے گي
وہ مہربان ہيں اب، پھر رہيں، رہيں نہ رہيں
زمين پر تو نہيں ہنديوں کو جا ملتي
مگر جہاں ميں ہيں خالي سمندروں کي تہيں
مثال کشتي بے حس مطيع فرماں ہيں
کہو تو بستہ ساحل رہيں ، کہو تو بہيں
فرما رہے تھے شيخ طريق عمل پہ وعظ
کفار ہند کے ہيں تجارت ميں سخت کوش
مشرک ہيں وہ جو رکھتے ہيں مشرک سے لين دين
ليکن ہماري قوم ہے محروم عقل و ہوش
ناپاک چيز ہوتي ہے کافر کے ہاتھ کي
سن لے، اگر ہے گوش مسلماں کا حق نيوش
اک بادہ کش بھي وعظ کي محفل ميں تھا شريک
جس کے ليے نصيحت واعظ تھي بار گوش
کہنے لگا ستم ہے کہ ايسے قيود کي
پابند ہو تجارت سامان خورد و نوش
ميں نے کہا کہ آپ کو مشکل نہيں کوئي
ہندوستاں ميں ہيں کلمہ گو بھي مے فروش
ديکھے چلتي ہے مشرق کي تجارت کب تک
شيشہ ديں کے عوض جام و سبو ليتا ہے
ہے مداوائے جنون نشتر تعليم جديد
ميرا سرجن رگ ملت سے لہو ليتا ہے
گائے اک روز ہوئي اونٹ سے يوں گرم سخن
نہيں اک حال پہ دنيا ميں کسي شے کو قرار
ميں تو بد نام ہوئي توڑ کے رسي اپني
سنتي ہوں آپ نے بھي توڑکے رکھ دي ہے مہار
ہند ميں آپ تو از روئے سياست ہيں اہم
ريل چلنے سے مگر دشت عرب ميں بيکار
کل تلک آپ کو تھا گائے کي محفل سے حذر
تھي لٹکتے ہوئے ہونٹوں پہ صدائے زنہار
آج يہ کيا ہے کہ ہم پر ہے عنايت اتني
نہ رہا آئنہء دل ميں وہ ديرينہ غبار
جب يہ تقرير سني اونٹ نے، شرما کے کہا
ہے ترے چاہنے والوں ميں ہمارا بھي شمار
رشک صد غمزئہ اشتر ہے تري ايک کليل
ہم تو ہيں ايسي کليلوں کے پرانے بيمار
ترے ہنگاموں کي تاثير يہ پھيلي بن ميں
بے زبانوں ميں بھي پيدا ہے مذاق گفتار
ايک ہي بن ميں ہے مدت سے بسيرا اپنا
گرچہ کچھ پاس نہيں، چارا بھي کھاتے ہيں ادھار
گوسفند و شتر و گاو و پلنگ و خر لنگ
ايک ہي رنگ ميں رنگيں ہوں تو ہے اپنا وقار
باغباں ہو سبق آموز جو يکرنگي کا
ہمزباں ہو کے رہيں کيوں نہ طيور گلزار
دے وہي جام ہميں بھي کہ مناسب ہے يہي
تو بھي سرشار ہو، تيرے رفقا بھي سرشار
دلق حافظ بچہ ارزد بہ ميش رنگيں کن ''
''وانگہش مست و خراب از رہ بازار بيار
رات مچھر نے کہہ ديا مجھ سے
ماجرا اپني ناتمامي کا
مجھ کو ديتے ہيں ايک بوند لہو
صلہ شب بھر کي تشنہ کامي کا
اور يہ بسوہ دار، بے زحمت
پي گيا سب لہو اسامي کا
يہ آيہ نو ، جيل سے نازل ہوئي مجھ پر
گيتا ميں ہے قرآن تو قرآن ميں گيتا
کيا خوب ہوئي آشتي شيخ و برہمن
اس جنگ ميں آخر نہ يہ ہارا نہ وہ جيتا
'مندر سے تو بيزار تھا پہلے ہي سے 'بدري
مسجد سے نکلتا نہيں، ضدي ہے مسيتا
جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
ہے يہي اک بات ہر مذہب کا تت
چٹے بٹے ايک ہي تھيلي کے ہيں
ساہو کاري، بسوہ داري، سلطنت
محنت و سرمايہ دنيا ميں صف آرا ہو گئے
ديکھے ہوتا ہے کس کس کي تمنائوں کا خون
حکمت و تدبير سے يہ فتنہ آشوب خيز
،ٹل نہيں سکتا ، وقد کنتم بہ تستعجلون
کھل گئے، ياجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
'چشم مسلم ديکھ لے تفسير حرف 'ينسلون
شام کي سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم يزل
رکھ کے ميخانے کے سارے قاعدے بالائے طاق
يہ اگر سچ ہے تو ہے کس درجہ عبرت کا مقام
رنگ اک پل ميں بدل جاتا ہے يہ نيلي رواق
حضرت کرزن کو اب فکر مداوا ہے ضرور
حکم برداري کے معدے ميں ہے درد لايطاق
وفد ہندستاں سے کرتے ہيں سرآغا خاں طلب
کيا يہ چورن ہے پےء ہضم فلسطين و عراق؟
تکرار تھي مزارع و مالک ميں ايک روز
دونوں يہ کہہ رہے تھے، مرا مال ہے زميں
کہتا تھا وہ، کرے جو زراعت اسي کا کھيت
کہتا تھا يہ کہ عقل ٹھکانے تري نہيں
پوچھا زميں سے ميں نے کہ ہے کس کا مال تو
بولي مجھے تو ہے فقط اس بات کا يقيں
مالک ہے يا مزارع شوريدہ حال ہے
جو زير آسماں ہے ، وہ دھرتي کا مال ہے
اٹھا کر پھينک دو باہر گلي ميں
نئي تہذيب کے انڈے ہيں گندے
الکشن، ممبري، کونسل، صدارت
بنائے خوب آزادي نے پھندے
مياں نجار بھي چھيلے گئے ساتھ
نہايت تيز ہيں يورپ کے رندے
کارخانے کا ہے مالک مردک ناکردہ کار
عيش کا پتلا ہے، محنت ہے اسے ناسازگار
حکم حق ہے ليس للا نسان الا ماسعي
کھائے کيوں مزدور کي محنت کا پھل سرمايہ دار
سنا ہے ميں نے، کل يہ گفتگو تھي کارخانے ميں
پرانے جھونپڑوں ميں ہے ٹھکانا دست کاروں کا
مگر سرکار نے کيا خوب کونسل ہال بنوايا
کوئي اس شہر ميں تکيہ نہ تھا سرمايہ داروں کا
مسجد تو بنا دي شب بھر ميں ايماں کي حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپي ہے، برسوں ميں نمازي بن نہ سکا
کيا خوب امير فيصل کو سنوسي نے پيغام ديا
تو نام و نسب کا حجازي ہے پر دل کا حجازي بن نہ سکا
تر آنکھيں تو ہو جاتي ہيں، پر کيا لذت اس رونے ميں
جب خون جگر کي آميزش سے اشک پيازي بن نہ سکا
اقبال بڑا اپديشک ہے من باتوں ميں موہ ليتا ہے
گفتارکا يہ غازي تو بنا ،کردار کا غازي بن نہ سکا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا